اللہ تعالی کی یاد ۔۔۔۔۔ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ:

اللہ تعالی کی یاد ۔۔۔۔۔ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ:


وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡھِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ﴿۱۱۴﴾ۚ

اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں اور رات کے کچھ حصوں میں،بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، نصیحت ماننے والوں کے لیے یہ ایک نصیحت ہے۔

وَ اصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ﴿۱۱۵﴾

 اور صبر کرو یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تشریح کلمات
زُلَفًا:

( ز ل ف ) الزلفۃ کے معنی قرب کے ہیں اور رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے۔ الزلفی قرب و مرتبہ ۔

تفسیر آیات
۱۔ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ: اس آیت میں (دن کے دوسروں اور طرفوں  ) سے مراد بعض احادیث کے مطابق صبح اور مغرب کی نمازیں ہیں اور ’’رات کے کچھ حصوں‘‘ سے مراد عشاء کی نماز ہے۔ اس آیت میں نماز ظہرین کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی وجہ ممکن ہے ابتدائے تشریع نماز میں نمازوں کے اوقات یہی ہوں اور معراج کے بعد پانچ نمازیں فرض کی گئیں جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں اور ضروری بھی نہیں کہ تمام نمازوں کا ہر جگہ ذکر ہو۔
 اور سیدالسادات منبع البرکات ،صدرالافاضل حضرت علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی کی تفسیر خزاٸن عرفان میں اسی آیت کے تحت یوں مرقوم ہے کہ دن کے دوکناروں سے صبح شام مراد ہیں ۔ زوال سے قبل کا وقت صبح میں اور اس کے بعد کاوقت شام میں داخل ہے ۔ صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر اور عصر ہیں اور رات کے حصوں کی نمازیں مغرب اور عشاء ہیں ۔

۲۔ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡھِبۡنَ السَّیِّاٰتِ: بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ نیکیاں بجا لانے سے گناہ دھل جاتے ہیں۔ اس طرح نیکی کے دو اثرات ہوتے ہیں : ایک تو یہ کہ نیکی کا ثواب ملتا ہے اور دوسرا یہ کہ گناہ دھل جاتے ہیں۔

واضح رہے انسان اگر راہ راست پر ہو اور گناہ سرزد ہو تو اس سے آزاد ہونے کے درج ذیل ذرائع ہیں : 
١۔اللہ غفور و رحیم ہے۔ وہ گناہوں کو خود معاف فرماتا ہے
٢۔ توبہ کے ذریعے بھی انسان گناہ سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔

٣۔ نیکیوں کے بجا لانے سے گناہ دھل جاتے ہیں اور یہ سب نہ ہو اور گناہوں کے بوجھ کے ساتھ وارد قیامت ہو جائے اور راہ راست پر ہو تو

٤۔شفاعت سیدالمعصومین ﷺ کے ذریعے گناہوں سے نجات مل سکتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید افزا آیت کون سی ہے؟

کسی نے کہا:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۔۔۔۔ (۴ نساء: ۱۱۶)

اللہ صرف شرک سے درگزر نہیں کرتا اس کے علاوہ جس کو چاہے معاف کر دیتا ہے۔۔۔۔

فرمایا: اچھی بات ہے لیکن وہ آیت یہ نہیں ہے۔

کسی اور نے کہا:

قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ۔۔۔ (۳۹ زمر: ۵۳)

کہدیجیے:اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔۔۔۔

فرمایا: اچھی بات ہے لیکن یہ آیت وہ نہیں ہے۔

کسی اور نے کہا:

وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۔۔۔ (۳ آل عمران: ۱۳۵)

اور جن سے کبھی نازیبا حرکت سرزد ہو جائے یاوہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھے تو اسی وقت خدا کو یاد کرے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہے۔۔۔

فرمایا: اچھی بات ہے لیکن یہ وہ آیت نہیں ہے۔

پھر جب لوگ خاموش ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمانو! کیا بات ہے؟

لوگوں نے کہا: ہمارے پاس اور کوئی آیت نہیں ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  نے فرمایا:

میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ کتاب خدا میں سب سے زیادہ امید افزا آیت یہ ہے:

وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡھِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ﴿﴾ 

اس آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:

صلوۃ المؤمن باللیل تذھب ما عمل من ذنب النھار ۔ (الکافی ۳: ۲۱۱)

مؤمن کی رات کی نماز دن کے گناہوں کو دور کر دیتی ہے۔

اہم نکات
۱۔ نماز یاد خدا کا ذریعہ اور یاد خدا گناہوں کے دھلنے کا ذریعہ ہے۔
از:۔ ابوعاطف رشیدی مصباحی

Post a Comment

Previous Post Next Post